Tuesday, 28 February 2017

TRAVELLING WITH ANXIETY



Once I was going through the circumstances of my life then you I thought to have a ride on my dream place that seems like Karachi where I want to live, but unfortunately I never got chance to live there. People know that Karachi is the best educational city in whole Pakistan where people want to study in their own university but people know that anybody cannot get chance to study there because of not having affordable life expenditures. It is another aspect of talk but I was thinking to leave my home for rest of life to be having the feeling of sick off. I did not know what was going in my life, I picked up my wallet in my pocket and kept the clothes in my bag for leaving the house because of sick off, I just told to my mother that I am leaving because I want to travel somewhere so my mom said to stop then I told her   I want to travel because of willing to fresh my mind then I wore my bag and then I left for Karachi, when I reached to bus stop then I am not used to having a ride in bus, I usually think negative while sitting in the bus like I am going to vomit. When I entered in bus I fortunately got first left seat from backside where two people can sit. I had a deep thought about my life during travelling that what will I do? What will I be? And what will happen in my life? These three questions were continuously upsetting me because of tiredness, then I slept for some time during travelling. The last stop where I have to get off from bus that was “Singer round about” where my uncle were standing to pick me, my uncle “Asif” who always supports me in my education and I reached his home eventually where I had to stay many days when I just entered at his home, I was surprised…. I was not expecting my elder uncle there. We met,sat and spent time then my aunt cooked delicious biryani, I found much difference in atmosphere, people, and biryani. I am fond of eating biryani because I am Hyderabadi person and in Hyderabad there is delicious biryani market in unit 11. When I just ate a morsel then I found much difference in taste and many things. I found his living style different in the way like in Karachi mostly there is shortage of pure water they usually utilize boring water. They face much difficulty by using boring water like combing to straight hairs and drinking. I found many combative owners of houses. I came back after some days after finding many changes I found my birth place best to live.

سعیدآباد کا سفر

سفر چاھے چھوٹا ہو یا بڑا مگر اس سفر کے دوران آنے والی پریشانیاں ایک طرف مگر گھر والوں سے ملنے کی خوشی ایک طرف جب میں اپنی یونیورسٹی سے اپنے گھر، جو کہ ضلع مٹیاری میں ہے اور نیو سعیدآباد کے نام سے جانا جاتا ہے یوں تو میں ہر ۱۵ سے ۲۰ دن میں ایک بار اپنے گھر والوں سے ملنے ضرور جاتا ہوں مگر اس بار انتحانات کی وجہ سے تین ماہ بعد گھر جا رہا تھا اس لیے گھر جانے کی بہت بے تابی تھی۔سفر تو میرا ڈیڑہ گھنٹے کا تھا مگر یہ لمحہ بھی کٹ نہں رہا تھا ، حیدرآباد کے بس اسٹاپ سے جب گھر کے سفر کا دور شروع ہوا وہ آج میں یوں بیان کر رہا ہوں۔
جب بھی حیدرآباد سے بس میں بیٹھا تو بہت مشکل ہوی کیوں کہ لوکل بس میں ۷۶ سیٹیں ہوتی ہیں اس کے باوجود بھی لوگ کھڑے ہو کر سفر کر رہے تھے۔بس اسٹاپ سے نکلتی ہے اور حیدرآباد ہای وے پر آجاتی ہے اس کے بعد کنڈیکٹر مسافروں سے کرایہ وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔میں نے کرایہ ادا کیا اور دیکھا کہ کنڈیکٹر ایک مسافر سے بے مقصد بحث کر راہا ہے مگر میں اس بات سے حیران نا تھا کیوں کہ مجھ اس بات کا علم تھا کہ یہ روز مرہ کا معمول تھا۔ایک مسافر نے بس میں بکری کو بھی چڑا دیا جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکل کا سامنہ تھا۔کنڈیکٹر صاحب جب اس شخص کے پاس پہنچا تو اس نے اس مسافر کے ساتھ ساتھ اس بکری کا کرایہ بھی وصول کیا۔
ان سب حالات کے بعد بس اپنے مختلف راستے تے کرتے ہوے ضلع مٹیاری پہنچی کچھ لوگ اسٹاپ پر اترے اور اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ مٹیاری کی خاص اور مشہور چیز وہاں کا ماوا ہے جو پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ بس کے باہر سے ماوا بیچنے والے افراد زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے "مٹیاری کا مشہور ماوا کھایں" ۔

بس کی کھڑکی سے اپنی حیثیت کہ مطابق ان سے ماوا خرید رہے تھے تو لوگون کی دیکھا دیکھی میں نے بھی ماوا خرید لیا۔کچھ دیر بعد بس مٹیای شہر سے نکلی اور اگلی منزل کی طرف چل پڑی اور پھر خیبر پہنچ گی۔ مگر میں ان خیالات میں ہی گم تھا کہ کب میرا شہر اور گھر آے۔خیبر سے نکلنےکے بعد بس بھٹ شاہ پہنچی۔اور بھٹ شاہ پہنچنے پر ایک الگ ہی سماہ دیکھنے کو ملتا ہے۔جب لوگ بس سے اترتے ہیں تو چنگچی رکشہ ایسے آتے ہیں جیسے وہ لوگوں پر ہی اتر دوڑیں گے۔ چند منٹ کے بعد ہی ہالا شہر آجاتا ہے جسے مخدوموں کا شہر بہی کہا جاتا ہے۔جب وہاں کے اسٹاپ پر بس رکتی ہے تو میں ہر مرتبہ ایک ہی بات سوچتا ہوں کہ زیادہ لوگ نہ چڑہیں مگر ایسا نا ہوا جتنے لوگ بس سے اترے تھے اس سے زیادہ ہی لوگ بس میں چڑ پڑے اور ان کے ساتھ ساتھ مختلف چیزوں کے بیچنے والے بھی بس میں چڑ پڑے۔ہالا شہر کے کچھ دیر بعد سعیدآباد میں داخل ہو گیا ۔ سعیدآباد کہ بس اسٹاپ پر بس رکی اور میں خوشی خوشی اپنے گھر کو چل دیا۔

Wednesday, 15 February 2017

پولیس تھانے کا ماحول

 پاکستان میں موجود مختلف حکومتی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر ادارے میں ایک طوفان بد انتظامی ایکھائی دیتی ہے۔چاہے وہ سرکاری تعلیمی ادارے ہوں یا عوامی فلاح وبہبود کے ادارے ان تامم اداروں میں انتہا کی کرپشناور بد انتظامی یہاں کا علمیہ بن چکا ہے ۔ اس طریقے سے ایک اور ادارہ جو بنایا تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کو تھا ۔ لیکن علمیہ یہ ہے کی عوام اس سے اپنی جان و مال کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور اگر بد قسمتی سے کسی موقع پر انہیں مجبوراًتھا نے کا رخؒ کرنا پڑتا ہے تو انہیں ایک خطرناک کلچر دیکھنے کی ملتی ہے۔ جو کہ تھانے کا بدترین کلچر ہے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک میں اس تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے محکمے میں کالی بھیڑیں نکالنے کے بجائے کچھ اقدامات کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ جن لوگوں کے خلاف وہ ایکشن لیتا ہے تو ان لوگوں کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا بلکہ اس کے خلاف ایکشن ہوجاتا ہے جو اس کلچر کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے یا تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے یا اسے معطل کردیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آئینی لحاظ سے جمہوریت دیکھائی دیتی ہے جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی آزادی رائے کی آزادی کا حق ہے۔ اور پولیس جسے عوام کی فلاح و بہود اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کو سڑکوں پر ’’ناکے‘‘ لگانے کے لیے مختلف علاقے دیے جاتے ہیں مگر ان کو کسی کی بھی عزت کرنی نہیں آتی اور نہ ہی ان کو بات آتی ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ پولیس اہلکار کسی سے بات کرتے ہیں تو ان کو مارنے لگتے ہیں ۔ اور اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ بھی سوچتا ہوگا میں نے کیوں ان کو بولا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں کو لوگوں سے بات کرنے کی تربیت دینی چاہئے ، چند دنوں پہلے میرے ساتھ ہی ایک واقعہ ہوا میں اپنے ابو کو کراچی کے لیے ساتھ نمبر چھوڑ کر واپس آرہا تھا اور واپسی پر الرحیم ریسٹورینٹ کے پاس ایک پولیس کی گاڑی کھڑی ہوتی جو رات میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔اس دن جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو ان لوگوں نے مجھے روک لیا اور میری ایسی تلاش لی جیسے میں کوئی دہشت گرد ہو یا کوئی مجرم انھوں نے کہا تم نے ہماری گاڑی کی طرف کیوں دیکھا۔ بس اگر یہ لعگ گاڑی کو دیکھنے پر ایسا کرسکتے ہیں تو اگر کوئی اس سے اونچی آواز میں بات کرے تو ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اگر دیکھا جائے اس کلچر کو اب تک تبدیل کیوں نہیں کیا گیا تو پتہ چلتاہے کہ جب زیر تربیت پولیس اہلکار کو گالم گلوچ دی جاتی ہے۔ اور ان کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ اور ان کو چھٹی کے لیے اپنے ہی پیٹی بند بھائی کو رشوت دینی پڑتی ہے ۔ اور جب یہ لوگ تربیت حاصل کرکے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تو عوام کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اس ملک میں تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے پولیس والوں سے انصاف کریں اس سہولتیں دیں اگر پھر بھی ان کو سہولتیں ملنے کے باوجود قانون نے تجاوز کرے اسے نشان عبرت سنادیں ۔ اور ایسی مثال قائم کریں جس سے عوام میں پولیس کا اعتماد بحال ہو سکے۔


 محمد زبیر
2K14/MC/67