پاکستان
میں موجود مختلف حکومتی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر ادارے میں ایک طوفان
بد انتظامی ایکھائی دیتی ہے۔چاہے وہ سرکاری تعلیمی ادارے ہوں یا عوامی فلاح وبہبود
کے ادارے ان تامم اداروں میں انتہا کی کرپشناور بد انتظامی یہاں کا علمیہ بن چکا
ہے ۔ اس طریقے سے ایک اور ادارہ جو بنایا تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کو
تھا ۔ لیکن علمیہ یہ ہے کی عوام اس سے اپنی جان و مال کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتی
ہے۔ اور اگر بد قسمتی سے کسی موقع پر انہیں مجبوراًتھا نے کا رخؒ کرنا پڑتا ہے تو
انہیں ایک خطرناک کلچر دیکھنے کی ملتی ہے۔ جو کہ تھانے کا بدترین کلچر ہے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک میں اس تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے محکمے میں کالی بھیڑیں نکالنے کے بجائے کچھ اقدامات کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ جن لوگوں کے خلاف وہ ایکشن لیتا ہے تو ان لوگوں کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا بلکہ اس کے خلاف ایکشن ہوجاتا ہے جو اس کلچر کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے یا تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے یا اسے معطل کردیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آئینی لحاظ سے جمہوریت دیکھائی دیتی ہے جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی آزادی رائے کی آزادی کا حق ہے۔ اور پولیس جسے عوام کی فلاح و بہود اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کو سڑکوں پر ’’ناکے‘‘ لگانے کے لیے مختلف علاقے دیے جاتے ہیں مگر ان کو کسی کی بھی عزت کرنی نہیں آتی اور نہ ہی ان کو بات آتی ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ پولیس اہلکار کسی سے بات کرتے ہیں تو ان کو مارنے لگتے ہیں ۔ اور اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ بھی سوچتا ہوگا میں نے کیوں ان کو بولا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں کو لوگوں سے بات کرنے کی تربیت دینی چاہئے ، چند دنوں پہلے میرے ساتھ ہی ایک واقعہ ہوا میں اپنے ابو کو کراچی کے لیے ساتھ نمبر چھوڑ کر واپس آرہا تھا اور واپسی پر الرحیم ریسٹورینٹ کے پاس ایک پولیس کی گاڑی کھڑی ہوتی جو رات میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔اس دن جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو ان لوگوں نے مجھے روک لیا اور میری ایسی تلاش لی جیسے میں کوئی دہشت گرد ہو یا کوئی مجرم انھوں نے کہا تم نے ہماری گاڑی کی طرف کیوں دیکھا۔ بس اگر یہ لعگ گاڑی کو دیکھنے پر ایسا کرسکتے ہیں تو اگر کوئی اس سے اونچی آواز میں بات کرے تو ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اگر دیکھا جائے اس کلچر کو اب تک تبدیل کیوں نہیں کیا گیا تو پتہ چلتاہے کہ جب زیر تربیت پولیس اہلکار کو گالم گلوچ دی جاتی ہے۔ اور ان کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ اور ان کو چھٹی کے لیے اپنے ہی پیٹی بند بھائی کو رشوت دینی پڑتی ہے ۔ اور جب یہ لوگ تربیت حاصل کرکے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تو عوام کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اس ملک میں تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے پولیس والوں سے انصاف کریں اس سہولتیں دیں اگر پھر بھی ان کو سہولتیں ملنے کے باوجود قانون نے تجاوز کرے اسے نشان عبرت سنادیں ۔ اور ایسی مثال قائم کریں جس سے عوام میں پولیس کا اعتماد بحال ہو سکے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک میں اس تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے محکمے میں کالی بھیڑیں نکالنے کے بجائے کچھ اقدامات کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ جن لوگوں کے خلاف وہ ایکشن لیتا ہے تو ان لوگوں کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا بلکہ اس کے خلاف ایکشن ہوجاتا ہے جو اس کلچر کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے یا تو اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے یا اسے معطل کردیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آئینی لحاظ سے جمہوریت دیکھائی دیتی ہے جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی آزادی رائے کی آزادی کا حق ہے۔ اور پولیس جسے عوام کی فلاح و بہود اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کو سڑکوں پر ’’ناکے‘‘ لگانے کے لیے مختلف علاقے دیے جاتے ہیں مگر ان کو کسی کی بھی عزت کرنی نہیں آتی اور نہ ہی ان کو بات آتی ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ پولیس اہلکار کسی سے بات کرتے ہیں تو ان کو مارنے لگتے ہیں ۔ اور اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ بھی سوچتا ہوگا میں نے کیوں ان کو بولا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں کو لوگوں سے بات کرنے کی تربیت دینی چاہئے ، چند دنوں پہلے میرے ساتھ ہی ایک واقعہ ہوا میں اپنے ابو کو کراچی کے لیے ساتھ نمبر چھوڑ کر واپس آرہا تھا اور واپسی پر الرحیم ریسٹورینٹ کے پاس ایک پولیس کی گاڑی کھڑی ہوتی جو رات میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔اس دن جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو ان لوگوں نے مجھے روک لیا اور میری ایسی تلاش لی جیسے میں کوئی دہشت گرد ہو یا کوئی مجرم انھوں نے کہا تم نے ہماری گاڑی کی طرف کیوں دیکھا۔ بس اگر یہ لعگ گاڑی کو دیکھنے پر ایسا کرسکتے ہیں تو اگر کوئی اس سے اونچی آواز میں بات کرے تو ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اگر دیکھا جائے اس کلچر کو اب تک تبدیل کیوں نہیں کیا گیا تو پتہ چلتاہے کہ جب زیر تربیت پولیس اہلکار کو گالم گلوچ دی جاتی ہے۔ اور ان کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ اور ان کو چھٹی کے لیے اپنے ہی پیٹی بند بھائی کو رشوت دینی پڑتی ہے ۔ اور جب یہ لوگ تربیت حاصل کرکے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تو عوام کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اس ملک میں تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے پولیس والوں سے انصاف کریں اس سہولتیں دیں اگر پھر بھی ان کو سہولتیں ملنے کے باوجود قانون نے تجاوز کرے اسے نشان عبرت سنادیں ۔ اور ایسی مثال قائم کریں جس سے عوام میں پولیس کا اعتماد بحال ہو سکے۔
محمد زبیر
2K14/MC/67
2K14/MC/67
No comments:
Post a Comment